شیخ حسینہ کو کرپشن کیس میں 21 سال،بیٹےاور بیٹی کو پانچ، پانچ سال قیدکی سزا
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیرِ اعظم اور عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کے الزامات پر مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنادی۔ یہ فیصلہ ڈھاکہ کے مضافات میں سرکاری اراضی کے مبینہ غیر قانونی حصول سے متعلق انسدادِ بدعنوانی کمیشن کی جانب سے دائر تین مقدمات میں سنایا گیا۔
78 سالہ شیخ حسینہ گزشتہ اگست میں بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں اور واپسی کے متعدد عدالتی احکامات کو نظرانداز کر چکی ہیں۔ ان پر اس سے قبل 17 نومبر کو غیر حاضری میں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جس میں ان پر گزشتہ سال طلبہ تحریک کے خلاف ریاستی جبر کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تازہ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ شیخ حسینہ نے ریاستی وسائل اور اختیارات کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا اور اپنے خاندان کو بھی غیر قانونی فوائد پہنچائے۔ مقدمات میں بھاچل نیو سٹی پراجیکٹ کے تحت قیمتی سرکاری پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے الزامات شامل تھے۔
جج عبداللہ المامون کے مطابق تینوں مقدمات میں سات، سات سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، جو مجموعی طور پر 21 سال بنتی ہیں۔ عدالت نے انہی کیسز میں ان کے بیٹے سجیب واجد اور بیٹی صائمہ واجد کو بھی پانچ، پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سجیب واجد امریکا میں مقیم ہیں جبکہ صائمہ واجد اقوام متحدہ میں تعینات ہیں۔
بنگلہ دیشی پراسیکیوٹر خان معین الحسن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں سابق وزیرِ اعظم اور ان کے بچوں کو دی جانے والی سزائیں کم ہیں، اور وہ ان فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عدالت نے تینوں مقدمات میں نامزد 47 ملزمان کو بھی مختلف سزائیں سنائی ہیں۔