غزہ — فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غلط، غیر پیشہ ورانہ اور اسرائیلی بیانیے پر مبنی قرار دیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اس رپورٹ کو فوراً واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
“رپورٹ میں اسرائیلی الزامات کو دہرایا گیا” — ترجمان حماس
حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں قابض اسرائیلی حکومت کے جھوٹ اور الزامات کو بغیر تحقیق دہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کا اصل مقصد اشتعال پھیلانا، مزاحمتی فورسز کی ساکھ متاثر کرنا اور زمینی حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزامات
خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو ہونے والے حملے میں حماس نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا، اور شہریوں کو ہدف بنایا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تحقیقات آزاد ذرائع سے کی گئیں۔
حماس کا سخت ردعمل
حماس نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو مسترد کرتی ہے کیونکہ یہ “غلط بنیادوں پر مرتب کی گئی” اور اس میں زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے قابض حکومت کے بیانیے کے مطابق الزامات لگائے گئے ہیں۔
