کابل — افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو بھی اس ہدایت کی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
علما کی پانچ نکاتی قرارداد کی توثیق
کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے افغانستان کے 34 صوبوں سے آئے سینکڑوں علما کی جانب سے منظور کی گئی پانچ نکاتی قرارداد کی توثیق کی، جس میں شامل نکات یہ تھے:
-
موجودہ نظام کی حمایت
-
علاقائی سالمیت کا دفاع
-
افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا
-
بیرونِ ملک عسکری سرگرمیوں میں افغان شمولیت کی مخالفت
-
مسلم دنیا میں اتحاد و اتفاق پر زور
“افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی”
امیر خان متقی نے کہا کہ علما کے فتوے کی روشنی میں اسلامی امارت کسی بھی افغان کو دوسرے ممالک میں عسکری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی افغان اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی و شرعی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اگرچہ انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ ان کا اشارہ پاکستان کی جانب تھا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
پاکستان—افغانستان تعلقات میں تناؤ برقرار
اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی کے شدت پسند سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔
دوحہ اور استنبول میں مذاکرات اور عارضی فائر بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، جبکہ سرحدیں بند رہنے سے دوطرفہ تجارت بھی متاثر ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان علما کی قرارداد پر ردعمل میں کہا تھا کہ اسے دیکھ کر جائزہ لیا جائے گا، تاہم پاکستان افغان قیادت سے تحریری ضمانتیں چاہتا ہے۔
“افغان پہلے سے زیادہ متحد ہیں” — متقی
امیر خان متقی نے کہا کہ حالیہ واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ افغان عوام پہلے کی نسبت زیادہ متحد ہیں۔ ان کے مطابق علما کے فتوے کے بعد نظام کا تحفظ صرف سکیورٹی فورسز نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کو بھی باہمی اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنے کی روش مضبوط رکھنی چاہیے۔
