غزہ میں تعینات عالمی فورس حماس سے نہیں لڑے گی، امریکہ

0

واشنگٹن / دوحہ: امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں متوقع انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) حماس کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی نہیں کرے گی، حالانکہ آئندہ ماہ کے اوائل میں اس فورس کی تعیناتی کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ اس امر کے باوجود یہ تاحال غیر واضح ہے کہ غزہ کو غیر فوجی بنانے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا عملی طریقہ کار کیا ہوگا۔

رائٹرز سے گفتگو میں دو امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اقوامِ متحدہ کی اجازت سے تشکیل پانے والی اس فورس کے لیے مختلف ممالک نے دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم فورس کے حجم، ساخت، قیادت، تربیت، رہائش اور قواعدِ مشغولیت پر ابھی تفصیلی کام جاری ہے۔ عہدیداروں کے مطابق، آئی ایس ایف کا مینڈیٹ حماس کے خلاف جنگ نہیں بلکہ محدود علاقوں میں استحکام اور نظم و نسق قائم کرنا ہوگا۔

دوحہ میں اہم بین الاقوامی کانفرنس

امریکی حکام کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) 16 دسمبر کو دوحہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گی جس میں غزہ کے لیے اسٹیبلائزیشن فورس کی منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ توقع ہے کہ 25 سے زائد ممالک اپنے نمائندے بھیجیں گے، جبکہ اجلاس میں کمانڈ اسٹرکچر، انتظامی امور اور آپریشنل فریم ورک پر خصوصی سیشنز شامل ہوں گے۔

حکام نے بتایا کہ فورس کی قیادت کے لیے ایک امریکی دو ستارہ جنرل کے نام پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا۔

جنوری کی تعیناتی کا ہدف اور رکاوٹیں

جنوری میں آئی ایس ایف کی تعیناتی کا ہدف نیا نہیں، اور اسرائیلی میڈیا گزشتہ دو ماہ سے اس امکان پر رپورٹنگ کر رہا ہے، تاہم ٹائم لائن سکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ جن ممالک کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ فوجی دستے فراہم کریں گے، مثلاً آذربائیجان اور انڈونیشیا، انہوں نے ابھی تک باضابطہ فیصلوں کا اعلان نہیں کیا۔

آذربائیجان کے ایک اہلکار نے حال ہی میں کہا تھا کہ فورس کے مینڈیٹ سے متعلق ناکافی معلومات کی وجہ سے حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔ دوسری جانب، انڈونیشیا نے عندیہ دیا ہے کہ وہ صحت اور تعمیراتی کاموں کے لیے 20 ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہا ہے۔ انڈونیشی وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور فورس کے تنظیمی ڈھانچے پر کام جاری ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.