بنگلہ دیش: قاتلانہ حملے میں زخمی طلبا تحریک کے رہنما شریف عثمان ہادی کی حالت تشویشناک

عثمان ہادی کے قاتل بھارت میں پناہ

ڈھاکا / سنگاپور – شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف جاری طلبا تحریک کے اہم رہنما اور انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی، جو حالیہ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے، ان کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ چیف ایڈوائزر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حالات میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور عثمان ہادی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے شریف عثمان ہادی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حالت نہایت نازک ہے۔ عثمان ہادی جولائی کی طلبا بغاوت کے فرنٹ لائن رہنما سمجھے جاتے ہیں اور اس وقت سنگاپور کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان ہادی پر جمعے کے روز نامعلوم نقاب پوش افراد نے قریبی فاصلے سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد ان کی تشویشناک حالت کے پیش نظر انہیں خصوصی علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا۔

ڈھاکا میں احتجاج، بھارتی ہائی کمیشن کے باہر کشیدگی

دوسری جانب ڈھاکا میں شریف عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کے خلاف شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جہاں طلبا اور سیاسی کارکنوں نے بھارتی ہائی کمیشن کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین نے ہائی کمیشن کے باہر نصب سیکیورٹی رکاوٹیں توڑ دیں اور حملے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کرنے والوں نے شیخ حسینہ واجد اور مبینہ طور پر حملے میں ملوث افراد کی فوری حوالگی کا بھی مطالبہ کیا، جبکہ مظاہرین نے حکومت پر طلبا تحریک کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عثمان ہادی پر حملہ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے، کیونکہ وہ حکومت مخالف طلبا تحریک کی نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں اور ان پر حملہ عوامی ردعمل کو مزید شدت دے سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے