ریاض – سعودی عرب کی کابینہ نے صنعتی شعبے سے وابستہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے اقامہ فیس مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔
سعودی میڈیا کے مطابق یہ منظوری اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں دی گئی، جسے صنعتی شعبے کی مسلسل سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے لیے دانشمندانہ قیادت کے اقدامات کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد قومی صنعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا، اس کی عالمی مسابقت کو بڑھانا اور پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق صنعتی شعبے کے غیر ملکی کارکنوں پر عائد اقامہ فیس کا خاتمہ وژن 2030 کے اہداف کے حصول کی جانب ایک اہم اور اسٹریٹجک قدم ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے سعودی عرب ایک مضبوط، لچکدار اور مسابقتی صنعتی معیشت کی تشکیل کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جہاں صنعت کو قومی آمدنی میں تنوع، روزگار کے مواقع اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف صنعتی اداروں کے اخراجات میں کمی کا باعث بنے گا بلکہ غیر ملکی ہنرمند افرادی قوت کو سعودی عرب میں کام کرنے کے لیے مزید پرکشش ماحول فراہم کرے گا، جس سے صنعتی پیداوار اور سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
