شام میں بڑی سیکیورٹی کارروائی، داعش کا اہم کمانڈر بین الاقوامی اتحاد کے تعاون سے گرفتار
دمشق — شام کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے نواحی صوبے ریف دمشق میں ایک بڑی سیکیورٹی کارروائی کے دوران دہشت گرد تنظیم داعش کے ایک اہم کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی بین الاقوامی اتحاد کے براہِ راست تعاون سے انجام دی گئی۔
ریف دمشق میں داخلی سیکیورٹی کے سربراہ احمد الدالاتی کے مطابق خصوصی سیکیورٹی یونٹس نے جنرل انٹیلی جنس اور بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے ساتھ مل کر معضمیہ شہر میں داعش کے ایک خفیہ ٹھکانے پر کامیاب آپریشن کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی طویل نگرانی اور مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران دمشق میں داعش کا سرغنہ طہ الزعبی، جو ابو عمر طبیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اپنے متعدد ساتھیوں سمیت گرفتار ہوا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور بھاری جنگی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
احمد الدالاتی نے اس کارروائی کو داعش کے لیے ایک “کاری ضرب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کو درپیش خطرات کے خلاف ریاستی اداروں کی مکمل تیاری اور مستعدی کا اظہار ہوتا ہے۔
شامی حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ داعش کے کسی اعلیٰ کمانڈر کی گرفتاری بین الاقوامی اتحاد کے براہِ راست تعاون سے عمل میں آئی ہے، جو انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے شامی سیکیورٹی فورسز نے دمشق کے علاقے دمر، شمال مغربی شہر قدسیا اور جنوبی شہر داریا میں داعش کے تین مختلف نیٹ ورکس کو بھی گرفتار کیا ہے۔
امریکی اندازوں کے مطابق 2025 تک شام اور عراق میں داعش کے 2,500 سے 7,000 کے قریب جنگجو اب بھی سرگرم ہیں، جبکہ ہزاروں مشتبہ افراد شمال مشرقی شام کی جیلوں اور کیمپوں میں قید ہیں۔