میانمار میں عام انتخابات کا پہلہ مرحلہ مکمل، دوسرا مرحلہ 11 اور آخری مرحلہ 25 جنوری کو ہوگا
نیپی دا — میانمار میں فوجی اقتدار اور جاری خانہ جنگی کے دوران کرائے جانے والے متنازع عام انتخابات کے پہلے مرحلے کا انعقاد مکمل ہو گیا، تاہم انتخابی عمل میں عوامی شرکت انتہائی کم رہی۔
انتخابی حکام کے مطابق عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ 11 جنوری جبکہ تیسرا اور آخری مرحلہ 25 جنوری 2026ء کو منعقد کیا جائے گا، جبکہ حتمی نتائج کا اعلان فروری 2026ء کے بعد متوقع ہے۔
بین الاقوامی برادری نے ان انتخابات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ، مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتخابی عمل کو غیر شفاف اور غیر معتبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات نہ آزاد ہیں اور نہ ہی منصفانہ بلکہ فوجی حکومت اپنی حکمرانی کو جمہوری لبادہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خانہ جنگی، سکیورٹی خدشات اور سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک کے کئی علاقوں میں ووٹنگ کا انعقاد ممکن ہی نہیں ہو سکا۔
حزبِ اختلاف اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اصل اقتدار بدستور فوجی سربراہ جنرل من آنگ ہلائن کے ہاتھ میں رہے گا، جبکہ فوج نواز سیاسی جماعتوں کی کامیابی کے امکانات واضح طور پر زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے بعد ملک میں سیاسی کشیدگی اور تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ انتخابی عمل عوامی اعتماد حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
خیال رہے کہ اس وقت میانمار کا تقریباً ایک تہائی حصہ باغی یا مزاحمتی گروہوں کے کنٹرول میں ہے، جبکہ انتخابات صرف انہی علاقوں میں کروائے جا رہے ہیں جہاں فوج کا براہِ راست کنٹرول موجود ہے۔