موغادیشو / ریاض — صومالیہ نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے جارحانہ، اشتعال انگیز اور علاقائی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔
صومالی وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی نے کہا ہے کہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ناقابلِ سمجھوتہ “سرخ لکیریں” ہیں، جن پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اسرائیلی اقدام نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پورے خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ صومالی حکومت نے اسرائیل سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے فوری طور پر دستبردار ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے یکطرفہ اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
عبدالسلام عبدی علی کا کہنا تھا کہ صومالی حکومت صومالی لینڈ کے خطے کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے، تاکہ ایک ایسا پرامن اور سیاسی حل تلاش کیا جا سکے جو صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے زور دیا کہ صومالیہ اختلافات کے حل کے لیے سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کیے رکھے گا۔
صدرِ صومالیہ کی شدید تنقید
دوسری جانب صومالی صدر حسن شیخ محمود نے بھی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا صومالی خودمختاری کی تاریخ کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہے۔
صدر محمود نے یہ بات صومالی پارلیمنٹ کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کے دوران کہی، جو اسرائیلی فیصلے کے ردِعمل میں طلب کیا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صومالیہ اپنی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر دستیاب سفارتی اور قانونی آپشن استعمال کرے گا۔
عالمی ردِعمل اور اسلامی ممالک کی حمایت
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 21 مسلم ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے میں صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کسی بھی ایسے اقدام کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے جو ملک کی وحدت کو نقصان پہنچائے۔
پس منظر
واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد موغادیشو سے یکطرفہ علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم تاحال اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ بین الاقوامی برادری صومالی لینڈ کو اب بھی وفاقی صومالیہ کے اندر ایک خودمختار خطہ تصور کرتی ہے، نہ کہ ایک آزاد ریاست۔
