امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران اپنے بیلسٹک میزائل یا جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو دوبارہ شروع کرتا ہے تو امریکہ ایران پر ایک اور بڑے حملے کی حمایت کر سکتا ہے، جبکہ انہوں نے غزہ میں حماس کو فوری طور پر غیر مسلح نہ ہونے کی صورت میں “بھاری قیمت” ادا کرنے کی وارننگ بھی دے دی ہے۔
فلوریڈا میں اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ تہران جون میں ہونے والے بڑے امریکی حملے کے بعد مختلف خفیہ مقامات پر دوبارہ ہتھیاروں کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران واقعی ایسا کر رہا ہے تو وہ اُن مقامات کا استعمال نہیں کر رہا جنہیں پہلے نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ ممکنہ طور پر نئی تنصیبات قائم کی گئی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو بخوبی علم ہے کہ ایران کہاں جا رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ دوبارہ بی-2 بمبار طیاروں کے ذریعے کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، اگرچہ انہوں نے طویل فاصلے کی پرواز کو “ایندھن کا ضیاع” قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کی بات چیت کا مرکز غزہ میں نازک جنگ بندی کو آگے بڑھانا، ایران کی سرگرمیوں اور لبنان میں حزب اللہ سے متعلق اسرائیلی تحفظات تھے۔ ایران نے حال ہی میں رواں ماہ دوسری مرتبہ میزائل مشقیں کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر اسرائیلی قیادت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غزہ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف جانا چاہتے ہیں، جس میں فلسطینی علاقے میں بین الاقوامی امن دستوں کی تعیناتی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ حماس غیر مسلح ہونے میں سنجیدہ نہیں اور اگر اس نے اپنے ہتھیار نہ چھوڑے تو اسے “سنگین نتائج” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل معاہدے کے اپنے حصے پر قائم رہا ہے، جبکہ حماس اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
اسرائیل پہلے ہی اشارہ دے چکا ہے کہ اگر حماس کو پرامن طریقے سے غیر مسلح نہ کیا گیا تو دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو “بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی” اگر اس نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا۔
ملاقات کے بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اسرائیل پرائز دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ اعزاز تاریخی طور پر اسرائیلی شہریوں کے لیے مخصوص رہا ہے۔ مجموعی طور پر ٹرمپ کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ وہ ایران اور غزہ کے معاملات پر نیتن یاہو کے مؤقف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید عسکری اقدامات کے لیے بھی تیار ہیں۔
