لائیو اسٹریمنگ میں خطرناک چیلنج جان لیوا ثابت ہوا، ہسپانوی انفلوئنسر ہلاک

0

اسپین میں سوشل میڈیا ایک افسوسناک واقعے سے لرز اٹھا، جہاں لائیو اسٹریمنگ کے دوران شراب اور منشیات کے خطرناک چیلنج کو پورا کرنے کی کوشش میں 37 سالہ معروف انفلوئنسر سرجیو جیمنیز جان کی بازی ہار گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرجیو جیمنیز نے لائیو نشریات کے دوران اعلان کیا تھا کہ اگر ناظرین مالی معاونت کریں تو وہ چھ گرام کوکین اور وہسکی کی ایک مکمل بوتل استعمال کر کے دکھائیں گے۔ بدقسمتی سے لائیو اسٹریمنگ میں شریک متعدد صارفین نے اسے روکنے کے بجائے اس خطرناک عمل پر اکسایا، جبکہ بعض افراد نے آن لائن رقم بھی منتقل کی۔

رپورٹ کے مطابق انفلوئنسر نے لائیو نشریات کے دوران پہلے منشیات کا استعمال کیا اور بعد ازاں وہسکی کی پوری بوتل پی لی، جس کے فوراً بعد اس کی حالت بگڑنے لگی۔ ہنگامی طبی امداد پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ گیا۔

سرجیو جیمنیز کی والدہ ٹریسا نے میڈیا کو بتایا کہ رات تقریباً دو بجے وہ باتھ روم کے لیے اٹھیں تو بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ متعدد بار آواز دینے کے باوجود کوئی جواب نہ ملا، جس پر انہوں نے کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم فرش پر بکھری اشیاء آڑے آ رہی تھیں۔
ان کے مطابق اندر جھانکنے پر سرجیو بستر کے قریب گھٹنوں کے بل جھکا ہوا دکھائی دیا، جیسے دعا کر رہا ہو، مگر درحقیقت وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔

پولیس کے مطابق کمرے سے تقریباً خالی وہسکی کی بوتل، انرجی ڈرنکس اور منشیات سے بھری پلیٹ برآمد ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ سرجیو جیمنیز کو آن لائن شہرت اس وقت ملی تھی جب وہ ایک متنازع اسٹریمر سائمن پیریز کی ویڈیوز میں نظر آئے تھے، جو لائیو نشریات میں منشیات کے استعمال کے باعث جانا جاتا ہے۔

ماہرین نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے خطرناک آن لائن چیلنجز نوجوانوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے جان لیوا رجحان بنتے جا رہے ہیں، جن کے سدباب کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.