بھارت میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک: معروف اداکار پراکاش راج کی مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس پر شدید تنقید
بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ منظم جبر اور امتیازی پالیسیوں پر ایک بار پھر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ معروف بھارتی اداکار اور ہدایت کار پراکاش راج نے وزیر اعظم نریندر مودی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور آر ایس ایس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں بھارتی ریاستی ادارے ہندوتوا ایجنڈے کے تابع ہو چکے ہیں۔
پراکاش راج کے مطابق بھارت میں مسلمانوں، قبائلیوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے خلاف ایک منظم منصوبے کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جو معاشرے کو شدید تقسیم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف میں محض تاخیر نہیں ہو رہی بلکہ انصاف سے انکار کیا جا رہا ہے، جبکہ عام شہری پولیس اور ریاستی اداروں سے خوف محسوس کرنے لگے ہیں۔
اداکار نے کہا کہ غیر قانونی اور جابرانہ طرزِ عمل نے پولیس کو عوام سے دور کر دیا ہے، اور انہوں نے آر ایس ایس کو بھارت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ پراکاش راج کے مطابق ریاستی طاقت کا استعمال مخصوص نظریے کے فروغ کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری اقدار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے رام مندر میں وزیر اعظم مودی کی موجودگی میں پرچم کشائی کو بی جے پی اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ کی واضح مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ عمل بھارت کے سیکولر تشخص کے منافی ہے۔
سیاسی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس پر آئینی تبدیلیوں، جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے کے الزامات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی جمہوریت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور ملک میں اقلیتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بھارت میں مذہبی رواداری، انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔