چین، روس اور ایران کی جنوبی افریقہ میں مشترکہ بحری مشقیں شروع
جوہانسبرگ – چین، روس اور ایران نے جنوبی افریقہ کے پانیوں میں ایک ہفتہ طویل مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کیا ہے، جسے میزبان ملک نے "برکس پلس آپریشن 2026” کے طور پر بیان کیا ہے۔ اس مشق کا مقصد بحری جہاز رانی اور سمندری اقتصادی سرگرمیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
برکس پلس، اصل برکس بلاک (برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ) کی توسیع ہے، جس میں مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ بلاک امریکی اور مغربی اقتصادی غلبہ کے توازن کے لیے ایک جغرافیائی و سیاسی اتحاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ افتتاحی تقریب کی قیادت چینی فوجی حکام نے کی، جبکہ برازیل، مصر اور ایتھوپیا بطور مبصر شریک ہیں۔
جنوبی افریقہ کی فوج نے کہا کہ مشقیں برکس پلس ممالک کی بحری افواج کے درمیان مشترکہ میری ٹائم سیفٹی آپریشنز اور انٹرآپریبلٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جوائنٹ آپریشنز کے قائم مقام ترجمان لیفٹیننٹ کرنل Mpho Mathebula نے بتایا کہ تمام مدعو ممالک نے حصہ لیا، اور یہ مشق کسی سیاسی یا امریکی مخالفت کا حصہ نہیں بلکہ تکنیکی اور دفاعی مقاصد تک محدود ہے۔
اس مشق کا انعقاد ایسے وقت میں ہوا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک پر "امریکہ مخالف” پالیسیوں پر عمل کرنے کا الزام لگایا اور 10 فیصد تجارتی ٹیرف کی دھمکی دی تھی۔ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے اتحادی پارٹی نے اس پر تنقید کی، لیکن کرنل میتھیبولا نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف صلاحیتوں کی بہتری اور معلومات کے تبادلے کے لیے بحری مشق ہے۔
مشقیں ایک ہفتے تک جاری رہیں گی اور برکس پلس کے رکن ممالک کی بحری صلاحیتوں اور آپریشنل تیاریوں کو جانچنے کے لیے مختلف مشقیں کی جائیں گی۔