اسرائیل کے معروف بزنس مین اور انتخابی مہمات کے سٹریٹجک مشیر موٹی سانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اسحاق ہرزوگ اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان پانچ سال قبل ایک سیاسی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ہرزوگ کو صدر منتخب کرانے کے بدلے نیتن یاہو کو ایسی صدارتی معافی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو انہیں کرپشن کے مقدمات میں ٹرائل سے بچا سکتی تھی۔
اسرائیلی ٹی وی چینل “12” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سانڈر نے بتایا کہ انہوں نے خود نیتن یاہو کو یہ ڈیل قبول کرنے کا مشورہ دیا تھا اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ سانڈر کے مطابق انہوں نے سارہ سے کہا تھا کہ اگر مقدمات جاری رہے تو نیتن یاہو کو جیل جانا پڑے گا اور میڈیا کی موجودگی میں ہفتہ وار ملاقاتیں ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوں گی، اس لیے بہتر ہے کہ معاہدے کے ذریعے معاملہ ختم کر دیا جائے اور نیتن یاہو اقتدار سے دستبردار ہو جائیں۔
سانڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ اس تجویز کے پیچھے اسحاق ہرزوگ تھے جنہوں نے انہیں نیتن یاہو کے پاس بھیجا، کیونکہ ہرزوگ کو خدشہ تھا کہ کہیں لیکود پارٹی دائیں بازو کی حمایت یافتہ کسی اور امیدوار کو صدر کے عہدے کے لیے سامنے نہ لے آئے یا خود نیتن یاہو صدارتی انتخاب نہ لڑ لیں، جس کی صورت میں ان کے خلاف ٹرائل رک سکتا تھا کیونکہ اسرائیلی قانون کے مطابق صدر کے خلاف فوجداری کارروائی ممکن نہیں۔
انٹرویو میں سانڈر نے کہا کہ انہوں نے اس اسکینڈل کو اب اس لیے بے نقاب کیا ہے کہ ہرزوگ نیتن یاہو کو خوش کرنے کے لیے ریاست اور قانون کے وقار کے منافی حد تک جا چکے ہیں اور اب انہیں جرم تسلیم کیے بغیر اور اقتدار چھوڑے بغیر معافی دلوانا چاہتے ہیں، جو قابلِ قبول نہیں۔
ان الزامات کے بعد ہرزوگ کے قریبی حلقوں نے موٹی سانڈر کے خلاف مہم شروع کی اور ان پر الزائمر میں مبتلا ہونے کا الزام لگایا، جبکہ لیکود پارٹی نے بھی ان کے دعوؤں کو جھوٹ قرار دیا۔ اس پر سانڈر نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایک سال قبل ڈاکٹروں نے ان میں الزائمر کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کی تھی، تاہم بعد ازاں یہ کیفیت عارضی ثابت ہوئی اور وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں، مگر ان کی ساکھ کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
سانڈر نے آخر میں کہا کہ وہ اس اصول پر قائم ہیں کہ نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچایا جا سکتا ہے اور ہرزوگ انہیں معافی دے سکتے ہیں، لیکن صرف اس صورت میں جب یہ سب کچھ قانون، منطق اور حکومتی شفافیت کے مطابق ہو۔ ان کے مطابق ٹرائل اسرائیل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اسے رکنا چاہیے، مگر ضابطے کے تحت، جس کے لیے نیتن یاہو کو جرم تسلیم کرنا اور اقتدار چھوڑنا ہوگا۔
