’ڈرامہ کیس نمبر 9‘ کے کردار حقیقی زندگی سے متاثر، اینکر شاہزیب خانزادہ نے ’کیس نمبر 10‘ کا اعلان کر دیا
معروف اینکر شاہزیب خانزادہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی تحریر کردہ کرائم ڈرامہ سیریز ’کیس نمبر 9‘ کے کئی کردار اور مناظر حقیقی زندگی کے واقعات اور ان کے قریبی ساتھیوں سے متاثر ہیں، جبکہ اس ڈرامے کی غیر معمولی کامیابی کے بعد انہوں نے نئی مرڈر مسٹری سیریز ’کیس نمبر 10‘ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ وہ بطور اسکرین رائٹر پہلی بار 2025 میں نشر ہونے والے ڈرامے ’کیس نمبر 9‘ کے ذریعے سامنے آئے اور اس پراجیکٹ کو شائقین کی جانب سے غیر متوقع حد تک پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے میں ہندو کردار روہت اور مانیشا ان کے ایک قریبی دوست سے متاثر ہو کر تخلیق کیے گئے، جبکہ شہباز اور عروسہ جیسے کردار بھی ان کی اپنی ٹیم کے افراد کے حقیقی ناموں اور شخصیات پر مبنی ہیں۔
شاہزیب خانزادہ کے مطابق بطور اینکر انہیں یہ احساس ہوا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے ان کے ذاتی تجربات عمومی تاثر سے مختلف ہیں، خاص طور پر سندھ میں اقلیتوں کو درپیش حالات ملک کے دیگر حصوں سے الگ دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنے پروگرام میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے تھے تو متاثرہ برادری کے افراد کا حد سے زیادہ شکر گزار ہونا انہیں پریشان کرتا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’کیس نمبر 9‘ کسی ایک واقعے پر مبنی نہیں، تاہم اس کے کئی مناظر حقیقی زندگی سے لیے گئے ہیں، جن میں ایک بااثر شخصیت کی جانب سے وکلا کے ذریعے متاثرہ فرد پر دباؤ ڈالنے کا واقعہ اور انسپکٹر شفیق کا تفتیشی انداز شامل ہے، اگرچہ اصل واقعات کہیں زیادہ سخت تھے جنہیں ناظرین کے لیے نرم انداز میں پیش کیا گیا۔
ڈرامے کی کامیابی کے بعد شاہزیب خانزادہ نے بتایا کہ وہ اپنی نئی مرڈر مسٹری کہانی ’کیس نمبر 10‘ مکمل کر چکے ہیں، تاہم اس کی نشریاتی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق ’کیس نمبر 9‘ کو ملنے والا زبردست ردِعمل ان کے لیے اگلے پراجیکٹ پر فوری کام کرنے کا باعث بنا۔