امریکہ میں خاتون کی ہلاکت، مظاہروں میں شدت آگئی، اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ

0

امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکار کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی لہر پھیل گئی ہے اور صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

امریکی شہر منیاپولس میں ہزاروں افراد امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے حراستی مرکز کے باہر جمع ہوئے اور واقعے میں ملوث آئی سی ای اہلکاروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہروں کے دوران کانگریس کی رکن الہان عمر سمیت تین ارکانِ کانگریس احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچیں تاہم انہیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ اس موقع پر الہان عمر نے کہا کہ امریکا میں جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔

ادھر لاس اینجلس میں بھی شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، جہاں پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ بوسٹن میں ہونے والے مظاہروں میں بھی شہریوں نے خاتون کے قتل میں ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور تارکین وطن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز ایک آئی سی ای اہلکار نے فائرنگ کر کے خاتون کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف حلقے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.