فلسطینی نژاد مصنفہ کو نکالنے پر180 سے زائد مصنفین اور مقررین کا احتجاج: ایڈیلیڈ رائٹرز ویک 2026 منسوخ

Adelaide Writers' Week 2026 cancelled after over 180 writers and speakers protest expulsion of Palestinian author

ایڈیلیڈ – آسٹریلیا میں ایڈیلیڈ رائٹرز ویک 2026 کو شدید تنازع اور احتجاج کے بعد باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی نژاد آسٹریلوی مصنفہ رندا عبدالفتاح کو پروگرام سے نکالنے کے خلاف 180 سے زائد مصنفین اور مقررین نے احتجاجاً شرکت سے انکار کیا۔

ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ نے اعلان کیا کہ یہ ادبی میلہ، جو 28 فروری سے شروع ہونا تھا، اب منعقد نہیں کیا جائے گا۔ بورڈ کے باقی ماندہ تین ارکان نے فوری استعفیٰ دے دیا، جبکہ اس سے قبل چار ارکان پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے۔ صرف ایڈیلیڈ سٹی کونسل کے نمائندے نے استعفیٰ نہیں دیا، جن کی مدت فروری میں ختم ہو رہی ہے۔

یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب بورڈ نے پانچ روز قبل اعلان کیا کہ رندا عبدالفتاح کو فیسٹیول میں شرکت سے روکا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کی وجہ سڈنی کے بونڈی علاقے میں یہودی برادری پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی ثقافتی حساسیت قرار دی تھی۔

بورڈ نے ایک بیان میں رندا عبدالفتاح سے معذرت کی، تاہم فیصلہ واپس نہیں لیا۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ شناخت یا اختلافِ رائے کا نہیں بلکہ قومی سطح پر اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث کے تناظر میں سامنے آنے والی صورتِ حال کا ہے۔ بورڈ نے کہا کہ یہ قدم متاثرہ کمیونٹی کے احترام میں اٹھایا گیا، تاہم اس سے مزید تقسیم پیدا ہوئی، جس پر انہیں دلی افسوس ہے۔

رندا عبدالفتاح نے بورڈ کی معذرت کو بے خلوص قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے فیسٹیول میں شرکت سے روکنے کے اعلان پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک فلسطینی آسٹریلوی مسلمان خاتون کے طور پر انہیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ قومی مکالمے کا حصہ نہیں بن سکتیں، جو انتہائی توہین آمیز اور نسل پرستانہ رویہ ہے۔ انہوں نے بونڈائی حملے کے ساتھ جوڑنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ فلسطینی کمیونٹی کو اس سے غلط طور پر جوڑا جا رہا ہے۔

ایڈیلیڈ رائٹرز ویک کی ڈائریکٹر لوئیس ایڈلر نے استعفیٰ کے بعد گارڈین آسٹریلیا میں لکھا کہ میں لکھاریوں کو خاموش کرنے کا حصہ نہیں بن سکتی۔ ایونٹ کی منسوخی میرے لیے حیران کن نہیں، کیونکہ ایونٹ ناقابلِ عمل ہو چکا تھا۔ 165 سیشنز میں سے صرف 12 میں مکمل پینل موجود رہا اور 70 فیصد لکھاری پیچھے ہٹ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح کے نامور مصنفین، جیسے زیدی اسمتھ، ایم گیسن اور جوناتھن کو شامل تھے، لیکن محنت ضائع ہو گئی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے