اردو ادب کے ممتاز شاعر محسن نقوی کو مداحوں سے بچھڑے 30 برس بیت گئے

0

اردو ادب کے ممتاز شاعر اور منفرد لب و لہجے کے خالق محسن نقوی کو اپنے مداحوں سے بچھڑے آج 30 برس مکمل ہو گئے۔ محبت، تنہائی، کرب اور مزاحمت کو شعری پیکر میں ڈھالنے والے اس عہد ساز شاعر کی یاد آج بھی اردو ادب میں زندہ ہے۔

محسن نقوی 5 مئی 1947ء کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید غلام عباس تھا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں شاعری کے میدان میں اپنی پہچان بنا لی۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوان نسل میں غیر معمولی مقبول رہی، جبکہ مرثیہ نگاری میں بھی وہ ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔

محسن نقوی کا اسلوب سادہ مگر گہرا، اور جذبات سے بھرپور تھا۔ ان کی شاعری میں فرد کی داخلی تنہائی، سماجی جبر اور روحانی کرب نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام آج بھی قاری کے دل پر براہِ راست اثر کرتا ہے۔

ان کی معروف تصانیف میں بندِ قبا، عذابِ دید، خیمۂ جاں، برگِ صحرا، طلوعِ اشک اور دیگر مجموعے شامل ہیں۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں اور مختلف محفلوں میں پڑھی جاتی ہیں۔

ادب کا یہ دمکتا ہوا چراغ 15 جنوری 1996ء کو بجھ گیا، مگر محسن نقوی اپنی شاعری کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے اشعار کی معنویت اور گہرائی مزید بڑھتی جا رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے شاعر وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.