یورپ میں کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، جرمنی اور فرانس میں سڑکوں پر ٹریکٹر مارچ
برسلز / برلن — یورپ بھر میں کسانوں کی ناراضگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جہاں جرمنی اور فرانس میں سیکڑوں کسان حکومتی پالیسیوں اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں کسانوں نے تاریخی برانڈنبرگ گیٹ کے سامنے ٹریکٹروں کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے زرعی اجناس کی قیمتوں پر بڑھتے دباؤ، پیداواری لاگت میں اضافے اور یورپی یونین کے مجوزہ مرکوسر تجارتی معاہدے کو اپنی مشکلات میں اضافے کا سبب قرار دیا۔
جرمن کسان تنظیموں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ماحولیاتی اور جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین میں نرمی نے مقامی کسانوں کو غیر منصفانہ عالمی مقابلے میں دھکیل دیا ہے، جس سے ان کا معاشی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
فرانس میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا
دوسری جانب فرانس میں کسانوں کے مظاہرے زیادہ جارحانہ صورت اختیار کر گئے، جہاں بعض مقامات پر یورپی یونین کے جھنڈے نذرِ آتش کیے گئے۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ “فرانس کو بقا کے لیے یورپی یونین سے نکلنا ہوگا۔”
فرانسیسی کسانوں کا مؤقف ہے کہ یورپی زرعی پالیسیاں بڑے کارپوریٹ فارمز کے حق میں جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے خلاف ہیں، جس سے دیہی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مظاہرے محض زرعی مسائل تک محدود نہیں بلکہ یورپ میں بڑھتے معاشی دباؤ، مہنگائی، اور یورپی یونین کے تجارتی ڈھانچے پر بڑھتے سوالات کی عکاسی کرتے ہیں، جو آئندہ یورپی انتخابات سے قبل سیاسی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔