فارن افیئرز: امریکا کا اسٹریٹجک ستون بننے کا بھارتی دعویٰ کمزور پڑنے لگا
واشنگٹن / نئی دہلی — امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت کا خود کو امریکا کا ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار قرار دینے کا بیانیہ حالیہ علاقائی اور سفارتی پیش رفت کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
جریدے کے مطابق مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور تناؤ بھرے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے انداز میں سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی سفارتی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی، بھارت کو عالمی سبکی
فارن افیئرز کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے بارہا پاکستان کی سفارتی اور عسکری کارکردگی کی تعریف اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط نے بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی دباؤ میں ڈال دیا۔
جریدے نے نشاندہی کی کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا بلکہ بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات بھی عائد کیے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید دراڑ پیدا ہوئی۔
امریکا میں بھارت پر اعتماد متزلزل
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ان پیش رفتوں کے بعد امریکی پالیسی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت بطور اسٹریٹجک شراکت دار قابلِ اعتماد ثابت نہ ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکا سے فاصلہ اختیار کرتا ہے تو یہ طرزِعمل ایک بالغ اور مستحکم اتحادی کے بجائے جذباتی ردعمل کی علامت ہے۔ پچیس برس پر محیط تعلقات کا صرف بیانیاتی انا کے باعث کمزور پڑ جانا، اس شراکت داری کی ادارہ جاتی بنیادوں کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
جنگ بندی: حقیقت اور بھارتی انکار
فارن افیئرز کے مطابق متعدد سفارتی ذرائع اس امر پر متفق ہیں کہ پاک بھارت جنگ بندی درحقیقت بھارتی درخواست پر امریکی مداخلت کے نتیجے میں ممکن ہوئی، تاہم نئی دہلی اندرونی سیاسی دباؤ اور قوم پرستانہ بیانیے کے باعث اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسئلہ امریکی ثالثی نہیں بلکہ بھارت کی یہ خواہش ہے کہ وہ ہر صورت بیانیے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے، چاہے اس کے لیے سفارتی حقائق سے انکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
چین، امریکا اور بھارتی تضاد
جریدے کے مطابق بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کے مقابلے میں امریکا سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو خارجہ پالیسی کا واضح تضاد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار، انا پر مبنی بیانیوں اور وقتی سیاسی مفادات سے نہیں بلکہ برابری، حقیقت پسندی اور ذمہ دار سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔