گرین لینڈ پر ٹرمپ کے بیانات کے خلاف ڈنمارک میں شدید احتجاج، یورپ کا دو ٹوک مؤقف

0

کوپن ہیگن — گرین لینڈ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے خلاف ڈنمارک میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں دارالحکومت کوپن ہیگن میں امریکی سفارتخانے کے باہر شدید احتجاج کیا گیا۔

مظاہرین نے صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کو خودمختاری کے خلاف کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ احتجاج کے دوران شرکاء نے “گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں” کے نعرے لگائے اور واضح کیا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اسی تناظر میں گرین لینڈ میں بھی شہریوں نے ریلیاں نکالیں، جہاں مظاہرین نے امریکی صدر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کسی بھی قسم کی امریکی سیاسی یا عسکری مداخلت کو مسترد کر دیا۔

نیٹو افواج کی آمد، خطے کی سیکیورٹی صورتحال زیرِ بحث

دوسری جانب نیٹو افواج کی مشترکہ مشقوں کے لیے فرانس، جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے فوجی دستے گرین لینڈ پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد خطے کی اسٹریٹجک اور سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق آرکٹک خطہ تیزی سے عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہو رہا ہے، جس کے باعث گرین لینڈ کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے۔

یورپی قیادت کا واضح پیغام

برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر نے مشترکہ اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے اور اس کی حیثیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یورپی رہنماؤں نے اس معاملے پر ڈنمارک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علاقائی خودمختاری کے احترام پر زور دیا۔

ٹرمپ کا ردِعمل: یورپی ممالک پر ٹیرف کا اعلان

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک کی حمایت کرنے والے آٹھ یورپی ممالک پر 10 فیصد تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس فیصلے پر یورپی سفارتی اور تجارتی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ اقدام امریکا اور یورپ کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.