حزب اللہ نے غیر مسلح کرنے کی کوششیں مسترد کر دیں، ریاستی اجارہ داری کو اسرائیلی و امریکی ایجنڈا قرار دے دیا

0

بیروت – لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے حکومت کی جانب سے ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری مسلط کرنے کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے اعلان کے بعد ایک بار پھر خود کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ اس کے ہتھیار لبنان، عوام اور مزاحمت کے دفاع کے لیے ہیں اور ان سے دستبرداری ملک کو سنگین خطرات سے دوچار کر دے گی۔

لبنانی حکومت کے منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں دریائے لیتانی کے جنوب میں ہتھیار صرف ریاست کے پاس رکھنے کی شرط عائد کی گئی تھی، جب کہ دوسرے مرحلے میں دریا کے شمال میں واقع علاقوں کو بھی اس دائرہ کار میں لانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ہفتے کے روز ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ حکومت کی جانب سے نیا مرحلہ شروع کرنے سے قبل ضروری ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان نے جنگ بندی معاہدے کی تمام شقوں پر عمل کیا اور مزاحمت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لبنانی جانب سے ایک بھی خلاف ورزی نہ ہو، لیکن اس کے برعکس اسرائیل نے اپنے کسی وعدے کو پورا نہیں کیا۔

شیخ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کہ جنگ بندی کے کئی مراحل ہیں، حقیقت کے منافی ہے۔
“جنگ بندی دراصل ایک ہی مرحلہ ہے، اس کا کوئی دوسرا مرحلہ موجود نہیں۔ ریاست نے اپنا کردار ادا کیا، مگر اسرائیل نے کسی ذمہ داری کو نبھایا ہی نہیں۔”

انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ حزب اللہ کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ وہ بغیر کسی رعایت کے اسرائیل کو مزید مراعات دے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں پر ریاستی اجارہ داری کا مطالبہ دراصل اسرائیلی اور امریکی دباؤ کا نتیجہ ہے جس کا اصل مقصد مزاحمت کو کمزور کرنا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “زیادہ مراعات دینا کمزوری کی علامت ہے، اور کمزور قومیں محفوظ نہیں رہ سکتیں۔ ہمارے ہتھیار دفاع کے لیے ہیں، جارحیت کے لیے نہیں۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمت کو غیر مسلح کیا گیا تو ملک میں قتل، اغوا اور عدم استحکام کسی بھی وقت جنم لے سکتا ہے۔
“اگر ہتھیار ڈال دیے گئے تو لبنان ہر طرح کے خطرات کے سامنے بے یار و مددگار ہو جائے گا۔”

غیر مسلح کرنے کے مطالبات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم مزاحمت کو برقرار رکھیں گے۔ لبنان مزاحمت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی مزاحمت تھی جس نے لبنان کو آزادی دلائی۔”

شیخ نعیم قاسم نے گزشتہ ہفتے لبنانی وزیر خارجہ یوسف راگی کے بیان پر بھی شدید تنقید کی، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر حزب اللہ مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہوئی تو اسرائیل کو فوجی کارروائی کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔

اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے قاسم نے سوال اٹھایا “یہ وزیر خارجہ کس کی نمائندگی کر رہا ہے؟ وہ کس کی زبان بول رہا ہے؟”

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر خارجہ ریاستی پالیسیوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ان کا مؤقف شہری امن کو نقصان پہنچانے اور اندرونی تصادم کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیر خارجہ کے اس مؤقف پر حکومت خاموش رہی تو اس کی ذمہ داری پوری حکومت پر عائد ہو گی۔
“یا تو حکومت اسے بدلے، خاموش کرے یا اسے لبنانی پالیسیوں کی پابندی کا پابند بنائے۔”

واضح رہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان نومبر 2024 میں جنگ بندی طے پائی تھی جس کے ذریعے ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری مکمل جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اکتوبر 2023 میں حزب اللہ نے غزہ میں حماس کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف سپورٹ فرنٹ کھولا تھا۔

شیخ نعیم قاسم کے حالیہ بیانات پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ لبنانی فورسز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ غیاث یزبیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے قاسم کے خطاب کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ کا لبنانی وزرا پر اس انداز میں حملہ اخلاقی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس طرزِ گفتگو سے ریاستی اداروں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

غیاث یزبیک نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات وزرا کے خلاف تشدد اور حتیٰ کہ “لبنانی ریاست کے قتل” کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی وزرا ریاست، خودمختاری اور قومی وقار کی نمائندگی کرتے ہیں اور انہیں دھمکی آمیز لہجے میں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے بالواسطہ طور پر حزب اللہ قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی قسم کی غلطیاں کرنے والے رہنما تاریخ کے صفحات میں دفن ہو چکے ہیں، اور موجودہ قیادت کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.