غزہ امن بورڈ کا قیام اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا، فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد

0

غزہ – فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد نے غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت بنائے گئے امن بورڈ کے ابتدائی ارکان کی نامزدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسلامی جہاد کے مطابق اس بورڈ کے ارکان کے انتخاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بورڈ کا قیام اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، نہ کہ فلسطینی عوام کے حق میں اقدامات کے لیے۔

اسلامی جہاد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بورڈ کو اسرائیلی ترجیحات کے مطابق سامنے لایا گیا ہے تاکہ غزہ کی پٹی کے انتظام اور وہاں اسرائیلی قبضے سے متعلق مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ گروپ نے اس عمل کو بری نیتوں اور ارادوں کا کھلا اظہار قرار دیا اور اسے فلسطینی عوام کی امن خواہشات کے لیے خطرناک قرار دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بورڈ کے ارکان کی نامزدگی ایک ایسا اقدام ہے جو جنگ بندی معاہدے کی روح کے منافی ہے اور یہ غزہ میں حقیقی قیادت یا عوامی نمائندگی کی بجائے بیرونی مفادات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اسلامی جہاد نے اس ضمن میں فلسطینی عوام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی اس معاملے کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

غزہ امن بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت تشکیل دیا گیا تھا، جس کے ارکان کے نام پہلے ہی اعلان کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اسلامی جہاد کا موقف ہے کہ یہ بورڈ فلسطینی عوام کے حقیقی مفادات کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ اسرائیلی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر کام کرے گا۔

واضح رہے کہ اس بورڈ کے قیام پر فلسطینی سیاسی حلقوں میں متنوع آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم اسلامی جہاد کے سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض گروپ اس منصوبے کو اپنی خودمختاری اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی قیادت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.