ہاکی کلب سکروٹنی صرف پی ایس بی کی نگرانی میں ہوگی، پاکستان ہاکی فیڈریشن کو نوٹس جاری

0

اسلام آباد – پاکستان سپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں ہاکی کلبز کی سکروٹنی کا عمل صرف اور صرف پی ایس بی کی نگرانی اور منظوری کے تحت انجام دیا جائے گا۔

پی ایس بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بورڈ سے پیشگی مشاورت کے بغیر ہاکی کلب سکروٹنی کا شیڈول جاری کیا، جو نہ صرف غیر منظور شدہ ہے بلکہ اس اقدام سے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز میں شدید کنفیوژن بھی پیدا ہو رہی ہے۔

غیر منظور شدہ شیڈول پر تحفظات

پاکستان سپورٹس بورڈ کا کہنا ہے کہ پی ایچ ایف کی جانب سے جاری کیا گیا سکروٹنی شیڈول ادارہ جاتی منظوری کے بغیر ہے، جس کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کی جا سکتی۔ پی ایس بی کے مطابق اس طرزِ عمل سے ہاکی کے انتظامی معاملات میں شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بورڈ نے واضح کیا کہ ہاکی کلبز کی سکروٹنی ایک حساس اور بنیادی انتظامی عمل ہے، جس کا براہِ راست تعلق فیڈریشن کے انتخابی نظام، رجسٹریشن اور گورننس سے جڑا ہوتا ہے، لہٰذا اس عمل کو کسی صورت غیر شفاف یا غیر منظم نہیں ہونے دیا جائے گا۔

شفافیت پی ایس بی کی نگرانی سے مشروط

پی ایس بی نے اپنے نوٹس میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ سکروٹنی کا پورا عمل شفافیت، قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی فیصلوں کے مطابق صرف پاکستان سپورٹس بورڈ کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو باضابطہ، مستند اور منظور شدہ ہدایات کے تحت ہی سکروٹنی کے عمل میں شامل کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا انتظامی یا قانونی تنازع پیدا نہ ہو۔

فوری وضاحت جاری کرنے کی ہدایت

پاکستان سپورٹس بورڈ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے پر وضاحتی بیان جاری کرے اور غیر منظور شدہ شیڈول سے پیدا ہونے والی ابہام کی صورتحال کو ختم کرے۔

پی ایس بی کے مطابق فیڈریشن کا حالیہ اقدام کھیل کے اندر اعتماد، شفافیت اور نظم و ضبط کو متاثر کر رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

ہاکی معاملات میں ادارہ جاتی نظم پر زور

بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کے انتظامی معاملات میں ادارہ جاتی ہم آہنگی، شفاف طرزِ حکمرانی اور قانونی فریم ورک پر عمل ناگزیر ہے۔ پی ایس بی نے واضح کیا کہ مستقبل میں کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی جو قواعد کے برعکس ہو یا کھیل کے مفاد کو نقصان پہنچائے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر آئندہ دنوں میں پی ایس بی اور پی ایچ ایف کے درمیان باضابطہ مشاورت بھی متوقع ہے تاکہ سکروٹنی کے عمل کو متفقہ، شفاف اور قابلِ اعتماد طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.