ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق پاکستان کی تیاریوں پر بریک، محسن نقوی کا بڑا فیصلہ
لاہور – پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے آئندہ ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم سے متعلق تمام جاری تیاریوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی نے ٹیم مینجمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ تاحال کسی قسم کی حتمی منصوبہ بندی، کیمپ، ٹریننگ یا لاجسٹک تیاری آگے نہ بڑھائی جائے، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق ٹیم انتظامیہ کو بعد میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
متوازی پلان طلب
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ٹیم مینجمنٹ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ممکنہ عدم شرکت کی صورت میں متوازی پلان بھی طلب کر لیا ہے۔ اس پلان میں متبادل سیریز، کھلاڑیوں کی دستیابی، ڈومیسٹک شیڈول اور آئندہ بین الاقوامی مصروفیات سے متعلق تجاویز شامل ہوں گی۔
پی سی بی حکام کے مطابق یہ فیصلہ کسی حتمی انخلا کی نشاندہی نہیں کرتا، تاہم موجودہ علاقائی اور سفارتی صورتحال کے پیش نظر تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے مؤقف کی پاکستان کی حمایت
ذرائع کے مطابق پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو پہلے ہی اس معاملے پر مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت کی یقین دہانی کروا رکھی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے بھارت نہ جانے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ہے، جو معقول اور قابلِ فہم ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو سیکیورٹی خدشات کے باوجود دباؤ میں لا کر کسی ایونٹ میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
بنگلہ دیش کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان بھی غور کرے گا
ذرائع کے مطابق اگر بنگلہ دیش کے تحفظات کا تسلی بخش حل نہ نکالا گیا تو پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
پی سی بی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی ایسے ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا جہاں کسی رکن ملک کے سیکیورٹی خدشات کو نظرانداز کیا جائے یا دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا جائے۔
صورتحال پر مسلسل مشاورت
پی سی بی حکام کے مطابق آئی سی سی، دیگر بورڈز اور متعلقہ حکومتی اداروں سے مسلسل رابطے جاری ہیں، جبکہ حتمی فیصلہ قومی مفاد، کھلاڑیوں کی سلامتی اور کرکٹ کے عالمی وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل ایک غیر معمولی صورتحال کی عکاس ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایونٹ بلکہ عالمی کرکٹ سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔