دفاع کرنا جانتے ہیں ایران غیر ملکیوں سے مدد نہیں مانگتا، زیلنسکی پر ایرانی وزیر خارجہ کی شدید تنقید

ایران کی فوج ہر لمحے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار تھی اور دشمن کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے

تہران – ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک خودمختار ریاست ہے اور وہ غیر ملکی طاقتوں سے مدد مانگنے کے بجائے اپنے ملک کا دفاع کرنا جانتا ہے۔

العربیہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا یہ ردعمل یوکرینی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکا سے ایران پر حملہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

عباس عراقچی نے جمعہ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری اپنے بیان میں یوکرینی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ولودیمیر زیلنسکی اپنے کرپٹ جرنیلوں کی جیبیں بھرنے اور نام نہاد غیر قانونی جارحیت کو جاری رکھنے کے لیے امریکی اور یورپی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بے دریغ استعمال کر رہے ہیں، جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف زیلنسکی خود اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا شکوہ کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ اسی چارٹر کی پامالی کرتے ہوئے امریکا کو ایران پر حملے کی دعوت دے رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور دوہرا معیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے عوام کے دفاع کے لیے کسی بیرونی طاقت کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں یوکرین کی فوج غیر ملکی امداد اور کرائے کے فوجیوں پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ ایرانی قوم اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور ہمیں کسی غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ اپنی خودمختاری، قومی وقار اور علاقائی سلامتی کا دفاع خود کرتا رہے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے