وینزویلا کی عبوری صدر کا امریکا کے احکامات مسترد کرنے کا اعلان

0

کاراکاس — وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی احکامات پر عمل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کو خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکی مداخلت کو وینزویلا کے لیے بھاری نقصان قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ غیر ملکی طاقتوں کی بار بار مداخلت کے بعد مزید برداشت کی گنجائش نہیں رہی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عبوری صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر عائد پابندیوں کے تناظر میں ملکی تیل کمپنیوں کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ روڈریگز نے سخت لہجے میں کہا کہ "بس بہت ہوگیا، امریکا احکامات کی حد کر چکا ہے۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔”

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی دباؤ اور مداخلت رک جائے تو وینزویلا نہ صرف ملک میں امن و استحکام قائم کر سکتا ہے بلکہ ہر بحران سے نکلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ امریکی سیکیورٹی فورسز نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا تھا۔ امریکی حکام نے مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی عدالت میں پیش کیا، جہاں ان پر منیشات اسمگلنگ اور امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں بلکہ اغوا ہے، جس کا مقصد وینزویلا کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیلسی روڈریگز کا یہ مؤقف وینزویلا میں امریکی اثر و رسوخ اور مقامی خود مختاری کے درمیان جاری کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں نئے بحران کا عندیہ دیتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.