کنشاسا — جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقے روبایا میں کولٹن کی کانیں منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم 200 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق مارچ 23 موومنٹ (M23) باغی گروہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ یہ ہلاکتیں روبایا کے مختلف کولٹن کانوں میں پیش آنے والے متعدد حادثات کا نتیجہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والے افراد مقامی سطح پر غیر رسمی طور پر کان کنی میں مصروف تھے، جو کانیں بیٹھنے کے بعد ملبے تلے دب گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ کان کنی کا یہ کام اکثر بغیر کسی تکنیکی نگرانی کے کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس نوعیت کے حادثات بار بار رونما ہوتے ہیں۔
تاحال امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم متاثرہ کانوں کی درست تعداد اور زخمیوں کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
واضح رہے کہ روبایا کا علاقہ کولٹن کی کان کنی کے لیے جانا جاتا ہے، جو موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات میں استعمال ہونے والا ایک اہم معدنی جزو ہے، اور یہی دولت کئی برسوں سے مسلح گروہوں اور انسانی المیوں کا سبب بنی ہوئی ہے۔
