تل ابیب / قاہرہ — اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کو آئندہ اتوار یکم فروری سے جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔ فوج کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اقدام جنگ بندی معاہدے اور سیاسی قیادت کی ہدایات کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت صرف محدود تعداد میں افراد کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔
اسرائیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ رفح کراسنگ پر نقل و حرکت مصر کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی، تاہم اس کے لیے اسرائیل کی جانب سے پیشگی سکیورٹی کلیئرنس لازمی ہوگی۔ آمد و رفت کا عمل یورپی یونین کے مشن کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا، جو جنوری 2025 میں نافذ کیے گئے طریقۂ کار سے مماثل ہوگا۔
بیان کے مطابق مصر سے غزہ کی پٹی میں صرف اُن فلسطینیوں کو واپسی کی اجازت دی جائے گی جو جنگ کے دوران غزہ چھوڑ کر گئے تھے۔ اس عمل کے لیے مصری حکام کے ساتھ ہم آہنگی اور اسرائیلی سکیورٹی کلیئرنس ناگزیر ہوگی۔
رفح کراسنگ پر شناخت اور ابتدائی جانچ کا عمل یورپی یونین کے مشن کے ذریعے انجام دیا جائے گا، جبکہ اضافی سکیورٹی جانچ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں موجود علاقے میں جدید سکیورٹی نظام کے تحت کی جائے گی۔
