سیکیورٹی فورسز کی مؤثر جنگی حکمت عملی، فتنہ الہندوستان کا ’آپریشن ہیروف‘ تہس نہس کر دیا گیا

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے افواج پاکستان کے خلاف لانچ کیے گئے آپریشن ہیروف 2 کو تہس نہس کر دیا ہے، مختلف مقامات پر حملوں کو ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 50 سے زیادہ فتنہ الہندوستان دہشتگردوں کو ہلاک کردیاہے۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے آپریشن ہیروف 2 اور مربوط حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، جبکہ مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، گوادر، پسنی، تربت اور دیگر علاقوں میں بیک وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں کے بروقت اور مؤثر ردعمل کے باعث بڑے نقصانات سے بچاؤ ممکن ہوا اور حملہ آور تمام دہشتگردوں کوہلاک کر دیا گیا ہے۔

 

کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دہشتگردوں نے ایک پولیس وین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے فوری جوابی کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ اس کارروائی میں ایف سی کے دستے بھی شامل ہوئے اور چار دہشت گرد مارے گئے۔

نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائر ریڈ کی گئی، تاہم الرٹ فورسز کے بھرپور جواب کے بعد دہشت گرد فرار ہو گئے۔ دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

قلات میں دہشت گردوں نے ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز پر حملہ کیا، جس پر سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا، جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔

پاکستان کوسٹ گارڈ کے پسنی میں واقع پوسٹ پر بھی حملہ کیا گیا، جسے مستعد جوانوں نے ناکام بنا دیا۔ گوادر میں دہشت گردوں نے مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنایا، تاہم پولیس اور ایف سی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

بالچہ، تمپ، مستونگ، بیسیما، رودھبن، پھلاباد، گومزئی، مالانٹ اور کاسانو میں بھی گرینیڈ حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، تاہم تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مختلف جھڑپوں میں 50 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 2 سے 3 سیکیورٹی اہلکاروں کو معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تمام متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول برقرار ہے اور سرچ و کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔

حکام نے ان حملوں کو ‘بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ناکام اور مربوط کوشش’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے