بھارت اور برازیل کا معدنیات و اسٹیل تعاون کا معاہدہ، دوطرفہ تجارت 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

0

نئی دہلی میں بھارت نے برازیل کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جو تین روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچے تھے۔

بھارتی حکومت کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد فولاد سازی کے لیے درکار اہم خام مال تک رسائی کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کو یقینی بنانا ہے، تاکہ ملک میں اسٹیل کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ برازیل دنیا کے بڑے آئرن اور معدنی وسائل رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جس سے بھارت کو طویل مدتی صنعتی ترقی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایکسپلوریشن، کان کنی اور اسٹیل کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔ بھارت کی موجودہ اسٹیل پیداوار کی صلاحیت تقریباً 218 ملین میٹرک ٹن ہے، اور انفراسٹرکچر منصوبوں اور صنعت کاری کے باعث مقامی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

مودی نے برازیلی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک آئندہ پانچ برس میں دوطرفہ تجارت کو 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس وقت تجارت کا حجم تقریباً 15 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور اختراع کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا۔

برازیل، لاطینی امریکہ اور کیریبین خطے میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک 2006 سے اسٹریٹجک پارٹنرز ہیں اور اقوام متحدہ کی اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی اور انسداد دہشت گردی سمیت عالمی امور پر مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔

برازیلی صدر لولا نے دوطرفہ تجارت کو امریکی ڈالر کے بجائے مقامی کرنسیوں میں کرنے کی تجویز بھی دی، تاہم انہوں نے برکس ممالک کی مشترکہ کرنسی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.