ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اسرائیل کے خلاف حملوں کا عندیہ دے دیا
یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
حوثی تنظیم کے دو سینیئر عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ ایک عہدیدار کے مطابق پہلا حملہ آج رات بھی کیا جا سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ برس بھی اس علاقے میں حوثی حملوں کی وجہ سے کئی تجارتی جہازوں کو اپنا راستہ بدلنا پڑا تھا۔
حوثیوں نے قبل ازیں امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت بحیرہ احمر میں حملے روک دیے تھے۔ اسی طرح اسرائیل پر حملے گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد روک دیے گئے، جس کے بعد خطے میں نسبتاً سکون قائم ہوا تھا۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق حوثی گروپ ایران کی حمایت میں دوبارہ سرگرم ہونے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر حملے دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو نہ صرف اسرائیل بلکہ عالمی بحری تجارت اور خطے کے امن پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فی الحال حوثی قیادت کی جانب سے کسی حتمی اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بڑے بحران کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت خطے میں ایران کی علاقائی اسٹریٹجک پالیسی اور حوثی گروپ کے کردار کو واضح کرتی ہے، اور عالمی تجارتی اور سیاسی حلقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کہ بحیرہ احمر میں سلامتی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔