ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی تنصیبات پر بڑا حملہ، کشیدگی میں شدید اضافہ

0

ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی عسکری و دفاعی مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے جوابی کارروائیوں کے نئے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والی بمباری کے جواب میں “آپریشن کا چھٹا مرحلہ” شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت خطے میں موجود 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں واقع فوجی کمانڈ ہیڈکوارٹر ہاکریا اور ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر نقصانات یا جانی صورتحال کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید سخت اور مختلف نوعیت کی کارروائیاں کی جائیں گی اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے “سرخ لکیر عبور” کر لی ہے اور انہیں اس کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے اور ملک اپنے رہنماؤں کے راستے پر چلتا رہے گا۔

دوسری جانب خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ مبصرین کے مطابق اگر ایرانی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر ہے اور دونوں جانب سے بیانات اور عسکری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی برادری کو ایک وسیع جنگ کے خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.