اربیل – شمالی عراق میں قائم خودمختار کرد انتظامیہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ عراق سے کرد جنگجوؤں کو مسلح کر کے ایران بھیجا جا رہا ہے۔
کرد انتظامیہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ خودمختار کرد حکومت خطے میں جنگ کو وسعت دینے کی کسی بھی کوشش کا حصہ نہیں ہے بلکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کی حامی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کرد انتظامیہ اپنے علاقے پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتی ہے اور Iraq کی وفاقی حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عراقی کرد عوام کو حملوں سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
ادھر Shanaz Ibrahim Ahmed، جو Abdul Latif Rashid کی اہلیہ اور عراق کی خاتونِ اول ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ کردوں کو ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کی سیاست کا شکار نہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 1991 میں Iraq میں بغاوت کے بعد کرد عوام کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا، جبکہ شام میں کردوں نے شدت پسند تنظیم Islamic State کے خلاف بھرپور مزاحمت کی لیکن بعد میں انہیں بھی بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
شاناز ابراہیم کا کہنا تھا کہ عراقی کرد عوام کو پہلی مرتبہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملا ہے اور وہ بڑی طاقتوں کے لیے کرائے کے سپاہی بننے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں Iran اور Israel کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں خطے میں مختلف قسم کے الزامات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم کرد قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں کسی فریق کا حصہ نہیں بننا چاہتی۔
