واشنگٹن – امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے اندر تقریباً 200 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ United States Central Command کے کمانڈر Brad Cooper نے ایران پر جاری حملوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فضائیہ کے B-2 Spirit بمبار طیاروں نے ایران میں میزائل تنصیبات پر تباہ کن حملے کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے کیے جانے والے بیلسٹک میزائل حملوں میں تقریباً 90 فیصد جبکہ ڈرون حملوں میں 83 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکی فورسز نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ صرف آخری گھنٹے میں امریکی B-2 بمبار طیاروں نے زیرِ زمین نصب بیلسٹک میزائل لانچروں کو نشانہ بناتے ہوئے 2000 پاؤنڈ وزنی پینیٹریٹر بم گرائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران 30 سے زائد ایرانی بحری جہاز بھی ڈبو دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کے اگلے مرحلے میں ایران کی میزائل پیدا کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے کہا کہ امریکا نے ایران میں جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ امریکا جنگ جاری نہیں رکھ سکتا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس وسیع جنگی وسائل موجود ہیں اور جنگ کی مدت کا تعین امریکا خود کرے گا۔ ان کے بقول یہ جنگ چار ہفتے، آٹھ ہفتے یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
