ریاض – سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اس کی فضائی حدود، سمندری راستے یا سرزمین استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، جس پر ایران نے سعودی موقف کا خیر مقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔
سعودی عرب میں ایران کے سفیر Alireza Enayati نے کہا کہ سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے اس کی فضائی، بحری اور زمینی حدود استعمال نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مؤقف پر ایران سعودی عرب کا شکر گزار ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق Saudi Arabia نے ایران اور United States کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں کی ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ Turki Al‑Faisal نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے امریکی صدر Donald Trump سے متعدد ملاقاتیں کر کے انہیں جنگ کے لیے قائل کیا۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق یہ دراصل نیتن یاہو کی جنگ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں خطے میں بغیر کسی رکاوٹ کے کارروائی کی آزادی حاصل ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب کا یہ مؤقف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
