نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں غیرملکی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا حق ہے، ایران کا سخت مؤقف

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met with his Egyptian counterpart

تہران – ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کسی بھی قسم کی غیرملکی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ معاملہ صرف ایرانی عوام اور ملکی اداروں کا اختیار ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اہداف پر ایرانی حملے دراصل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کا ردعمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اس تنازع کا انتخاب نہیں کیا بلکہ ملک صرف اپنے دفاع میں کارروائیاں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف تنازع بلااشتعال، غیر مطلوب اور غیر قانونی ہے، جبکہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ صرف حملوں کے جواب میں اقدامات کیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی کارروائیوں میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور دیگر فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کوئی نہیں جانتا کہ ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا، کیونکہ اس حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ Assembly of Experts کرے گی، جو ایران کے 88 سینئر علما پر مشتمل ایک آئینی ادارہ ہے اور یہی باڈی ملک کے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔ اس اسمبلی کے ارکان ایرانی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کسی کو بھی اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور ایرانی عوام کبھی بھی امریکی صدر Donald Trump کی غیر مشروط سرنڈر کی شرط قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جون 2025 میں ایران نے جنگ بندی قبول کی تھی، تاہم اب ضروری ہے کہ خطے میں مستقل امن قائم ہو۔ ان کے مطابق کوئی بھی اس جنگ کو جاری رکھنا نہیں چاہتا، لیکن ایران اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کے سیاسی ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور صدارتی دفتر، کابینہ اور پارلیمنٹ سمیت تمام ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے رہبر کے انتخاب کا حق صرف ایرانی عوام کو حاصل ہے اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے