سعودی عرب کا ایران کے سفارتی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم، کشیدگی میں اضافہ

Israel's airstrikes on Beirut, Iran targets Tel Aviv and US bases with missiles and drones

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان Saudi Arabia نے Iran کے دو فوجی اتاشیوں اور ان کے عملے کے تین دیگر ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی حکومت نے ان پانچ ایرانی اہلکاروں کو “ناپسندیدہ شخصیات” (Persona Non Grata) قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مختلف حملوں کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کیے جا رہے ہیں۔

سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ Gulf Cooperation Council کے رکن ممالک اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کو بھی بارہا نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی اقدامات سعودی خودمختاری، شہری انفراسٹرکچر، معاشی مفادات اور سفارتی تنصیبات کے خلاف ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

سعودی حکومت نے خبردار کیا کہ اگر یہ جارحانہ طرزِ عمل جاری رہا تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور اس کے خطے کی مجموعی سکیورٹی پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ سفارتی محاذ پر بھی محاذ آرائی بڑھ رہی ہے، جبکہ عسکری اور سیاسی سطح پر پہلے سے جاری کشیدگی کسی بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے