عرب ممالک نے ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور حالیہ حملوں کے تناظر میں اتوار کو وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یہ اجلاس بحرین کی صدارت میں عرب لیگ کے 165ویں وزارتی اجلاس کے طور پر منعقد ہوگا۔ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگا، جس میں عرب ممالک پر مبینہ ایرانی حملوں کے معاملے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ایک عرب سفارتی ذریعے کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد صرف ان حملوں پر بحث کرنا ہے جن کا الزام ایران پر عائد کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر پہلے سے طے شدہ ایجنڈا آئٹمز کو مؤخر کر دیا جائے گا۔
متحدہ عرب مؤقف کی کوشش
رپورٹس کے مطابق خلیجی اور عرب ممالک گزشتہ ہفتے ریاض میں بھی ملاقات کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے ایران پر “خودمختاری کی خلاف ورزی” اور “اچھی ہمسائیگی کے اصولوں کی پامالی” کے الزامات عائد کیے تھے۔
ان ملاقاتوں میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ:
- ایران کے حملے ناقابلِ جواز ہیں
- یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں
- خطے کے ممالک اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں
خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیاں
مصری وزیر خارجہ Badr Abdelatty نے بحرین، اردن اور عراق کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کیے تاکہ اجلاس کی تیاری اور مشترکہ مؤقف پر مشاورت ہو سکے۔
