روس کے وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے کہا ہے کہ ایران کو ماضی میں جھوٹے وعدوں اور دھمکیوں کے ذریعے ٹرخایا گیا، لیکن اصل مسائل پر سنجیدہ بات چیت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق ایران کو ایسے بیانات اور یقین دہانیوں کا سامنا رہا ہے جن میں ٹھوس حقائق کا فقدان تھا۔
لاوروف نے کہا کہ Iran کا یہ مؤقف درست ہے کہ وہ پہلے بھی ایسے وعدوں کا شکار ہو چکا ہے، اسی لیے وہ موجودہ مذاکراتی عمل میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ جاری بات چیت کے حوالے سے کہا کہ بظاہر بیانات اور اعلانات تو سامنے آتے ہیں، مگر عملی پیش رفت واضح نہیں۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق ان کا ملک پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکراتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال نہایت غیر مستحکم ہے اور حالات چند گھنٹوں میں کئی بار تبدیل ہو سکتے ہیں۔
Sergey Lavrov نے مزید کہا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان 2015ء جیسا کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
