لبنان اسرائیل کو تسلیم کرے، پابندی ختم کرنے کیلئے دباؤ، مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا: اسرائیلی میڈیا

Progress in Washington talks, Israel and Lebanon agree to direct talks

Israel کے میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت Benjamin Netanyahu کی قیادت میں یہ مؤقف رکھتی ہے کہ Lebanon ایسے قوانین ختم کرے جن کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ براہِ راست رابطے پر پابندی عائد ہے۔

اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت واشنگٹن میں ہونے والی سفارتی ملاقاتوں میں اس معاملے کو اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے، تاکہ لبنان پر اس قانون کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج جمعرات کو امریکا میں سفیروں کی سطح پر ہوگا۔ اس سے قبل پہلا دور 14 اپریل کو واشنگٹن میں ہوا تھا، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر Joseph Aoun نے سابق سفیر Simon Karam کی قیادت میں ایک وفد کو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت 10 روزہ جنگ بندی طے کی گئی ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔

معاہدے کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا، جبکہ لبنان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ سکیورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر لبنانی فورسز کے سپرد ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں ایک حساس مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں جنگ بندی کے باوجود سیاسی اور قانونی تنازعات برقرار ہیں، اور امریکا اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے