امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے جمعہ کے روز اسرائیل اور لبنان کے درمیان فوجی سطح کے مذاکرات کے نئے مرحلے کے پہلے دور کی میزبانی کی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان کے اندر فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں، اور اسرائیلی حکام نے حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
لبنان کی مسلح افواج کی نمائندگی ملٹری آپریشنز کے سربراہ نے کی، جبکہ اسرائیلی وفد کی قیادت ملٹری اسٹریٹجک ڈویژن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی وفود نے باضابطہ طور پر براہ راست مذاکرات میں حصہ لیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کنٹرول کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں کے لیے ایک مستقل چینل قائم کرنا ہے۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان واشنگٹن میں ابتدائی ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں آئندہ کے مذاکراتی فریم ورک پر اتفاق کیا گیا تھا۔ موجودہ فوجی مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
ذرائع کے مطابق فریقین اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ ایک ایسا رابطہ نظام قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے فوجی سطح پر براہ راست معلومات اور پیغامات کا تبادلہ ممکن ہو سکے گا، تاکہ سرحدی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
امریکی حکام کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس عمل کو سیاسی سطح تک بھی وسعت دی جائے گی، اور ممکنہ طور پر اگلا سیاسی مذاکراتی دور بھی واشنگٹن میں منعقد کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق فوجی پیش قدمی جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی کے اطراف تک پہنچ چکی ہے۔
مذاکرات کے بعد لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور آئندہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
