جنگیں، تقسیم اور عدم اعتماد دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں، پوپ لیو کا ہسپانوی پارلیمنٹ سے خطاب

پوپ لیو نے اسپین کی پارلیمنٹ سے اپنے اہم خطاب میں خبردار کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک گہرے روحانی اور ثقافتی بحران کا شکار ہے، جس کے اثرات بڑھتے ہوئے تنازعات، سیاسی تقسیم، تشدد اور باہمی عدم اعتماد کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات انسانی معاشروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہتھیار وقتی طور پر خاموشی تو مسلط کر سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی حقیقی اور پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے۔

پوپ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ جنگوں اور کشیدگی کو ہوا دینے کے بجائے امن، مکالمے اور انسانی ہمدردی کے فروغ پر توجہ دیں۔ انہوں نے خاص طور پر یورپ میں بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی بجٹ میں مسلسل اضافہ ایک پریشان کن رجحان ہے۔

انہوں نے تارکین وطن کے مسئلے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مشکلات بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیادوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق صرف سرحدی نگرانی یا مہاجرین کے بہاؤ کو محدود کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان بنیادی وجوہات کا خاتمہ ضروری ہے جو لوگوں کو اپنے وطن چھوڑنے پر مجبور کرتی ہیں، جن میں جنگ، غربت اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔

پوپ لیو نے کہا کہ کسی بھی قوم کی اصل عظمت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور ضرورت مند شہریوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی وقار، سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائیں۔

اپنے دورہ اسپین کے دوران پوپ نے کلیسائی اہلکاروں کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے افراد سے بھی ملاقات کی اور چرچ قیادت پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے کو کلیسا کے لیے ایک سنگین اخلاقی چیلنج قرار دیا۔

پوپ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے عسکری استعمال پر بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے سخت اخلاقی نگرانی ضروری ہے تاکہ اسے انسانیت کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

اسپین کی پارلیمنٹ میں پوپ کے خطاب کو قانون سازوں نے بھرپور پذیرائی دی اور متعدد ارکان نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے