اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان سے متعلق اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خیالات، تجاویز اور سفارتی پیغامات کے تبادلے کا عمل بدستور جاری ہے۔
امیر سعید ایروانی نے کہا کہ دونوں ممالک مختلف معاملات پر اپنی آرا اور تجاویز پاکستان کی ثالثی اور سفارتی معاونت کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل کا مقصد ایسے نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو ایک متفقہ اور قابلِ قبول معاہدے کی راہ ہموار کر سکیں۔
ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ اگرچہ ابھی تک دونوں فریق کسی حتمی مسودے یا جامع معاہدے پر متفق نہیں ہو سکے، تاہم مذاکراتی عمل رکا نہیں ہے اور مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری رابطے مستقبل میں کسی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد اختلافی امور کو کم کرنا اور ایسا فریم ورک تیار کرنا ہے جو ایران اور امریکا دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کے مطابق پاکستان اس پورے عمل میں رابطے کے ایک اہم ذریعے اور سفارتی سہولت کار کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے
