دریائے چناب میں خانکی اور قادرآباد کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، نشیبی علاقوں سے انخلاء کی ہدایت

پنجاب میں محکمہ آبپاشی کے ترجمان کے مطابق خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر دریائے چناب میں بلند درجے کا سیلاب ہے۔ صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے دریائی بیلٹ کے قریب نشیبی بستیوں سے انخلاء کی ہدایات جاری کردیں۔

ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی بیراج پر دو لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد اور دو لاکھ 56 ہزار 63 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا، یہاں بلند درجے کا سیلاب ہے۔

قادرآباد بیراج پر دو لاکھ 67 ہزار 159 کیوسک پانی کی آمد اور دو لاکھ 52 ہزار 159 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق کیو بی لنک نہر میں 15 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ یہاں بھی بلند درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے چناب میں مرالہ بیراج پر ایک لاکھ 94 ہزار 452 کیوسک پانی کی آمد اور ایک لاکھ 74 ہزار 452 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پانی میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ جسڑ پر 24 ہزار 940 کیوسک، راوی سائفن پر 32 ہزار 577 کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر 32 ہزار 138 کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جہاں صورتحال معمول کے مطابق اور پانی کی سطح مستحکم ہے۔

ترجمان کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی ہیڈورکس پر 73 ہزار 625 کیوسک پانی کی آمد اور 50 ہزار 725 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں کم درجے کا سیلاب ہے تاہم صورتحال مستحکم ہے۔

دریائے راوی پر سدھنائی بیراج میں 19 ہزار 607 کیوسک پانی کی آمد اور 3 ہزار 607 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا، جبکہ وہاں بھی صورتحال معمول کے مطابق اور پانی کی سطح مستحکم ہے۔

چنیوٹ کی نشیبی بستیوں سے انخلاء کی ہدایات

بھارتی آبی جارحیت کے بعد ریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل ہونے سے دریائی بیلٹ کے قریب چنیوٹ کی نشیبی بستیوں سے انخلاء کی ہدایات جاری کردیں گئیں۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق 3 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا خانکی اور قادر آباد سے ہوتا ہوا چنیوت کی حدود میں داخل ہوگا، سیلاںی صورتحال کے پیش نظر  فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردئیے۔ آئندہ چند گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا۔

حافظ آباد میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں پانی چھوڑے جانے کے بعد پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت 2 لاکھ 45 ہزار 234 کیوسک پانی کی آمد جبکہ 2 لاکھ 30 ہزار 234 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث یہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب

ننکانہ صاحب میں دریائے راوی ہیڈ بلوکی کے مقام پر پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی ہے، جہاں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کی آمد 73 ہزار 625 کیوسک جبکہ اخراج 50 ہزار 725 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے دریائے راوی کے کنارے آباد شہریوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر افراد اپنے اہل خانہ، مویشیوں اور ضروری سامان کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔

ڈی سی رعنا حمید نے کہا کہ دریائے راوی کے کنارے آباد شہری بلاتاخیر محفوظ مقامات پرمنتقل ہوں، ہیڈبلوکی پردریائےراوی میں کشتی چلانے پر دفعہ144کے تحت پابندی نافذ ہے، شہری ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول دیے

بھارت نے سلال ڈیم کے گیٹ کھول دیے، جس کے بعد دریائے چناب میں پاکستان کی جانب پانی کا اخراج شروع ہوگیا ہے۔ پانی کی سطح میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کردیا گیا۔

فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریبی مواضعات بھی زیرآب آسکتے ہیں، جبکہ ملتان اور مظفرگڑھ کے نشیبی دیہات کے لیے بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ ہیڈ مرالہ سے ہیڈ تریموں تک دریائے چناب سے ملحقہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے