نجی ایئر لائن کے سمندر میں گرنے والے کارگو طیارے کی تلاش کے لیے بین الاقوامی ڈیپ سی سرچ آپریشن تیز کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگست کے وسط یا آخر تک بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران ڈائیورز کی مدد سے سالویج آپریشن کیا جائے گا، جس میں ڈائیونگ بیل، ایئر بیگز، ریموٹ آپریٹڈ وہیکل (ROV) اور دیگر جدید آلات استعمال کیے جائیں گے۔ آپریشن پر تقریباً 2 ارب 78 کروڑ روپے لاگت آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب طیارے کے مالک طارق راجہ متعدد بار رابطے کے باوجود تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق دبئی میں مقیم طارق راجہ نے طبی وجوہات کی بنا پر ذاتی پیشی سے معذرت کر لی ہے، تاہم وہ ویڈیو لنک کے ذریعے تحقیقاتی حکام سے تعاون کریں گے۔
ذرائع کے مطابق بیورو آف ایئر کرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن اگست کے پہلے ہفتے میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ حکومتِ پاکستان کو پیش کرے گا۔
ادھر بیورو آف ایئر کرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن نے کراچی ایئرپورٹ پر قائم ایئر لائن کمپنی کے دفاتر ڈی سیل کرکے انتظامیہ کے حوالے کر دیے ہیں، جبکہ حادثے کی تحقیقات اور طیارے کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
