آرمینیا میں اپوسٹولک چرچ کے سربراہ کیتھولیکوس کیریکن دوم اور چھ دیگر سینئر علما کے خلاف جمعہ کو مقدمے کی سماعت ہوگی، جسے حکومت اور چرچ کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق کیریکن دوم اور دیگر ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک بشپ کو عارضی طور پر بحال کرنے کے سول عدالت کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ مذکورہ بشپ کو چرچ نے پہلے اپنے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
اگر عدالت انہیں قصوروار قرار دیتی ہے تو انہیں دو سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ مقدمہ آرمینین اپوسٹولک چرچ کی اعلیٰ قیادت کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا قانونی اقدام سمجھا جا رہا ہے۔ اپوسٹولک چرچ آرمینیا کا ایک انتہائی بااثر مذہبی ادارہ ہے، جس کی تاریخ 301 عیسوی میں آرمینیا کے عیسائیت قبول کرنے سے جڑی ہوئی ہے۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم نکول پشینیان کی حکومت اور چرچ کے درمیان اختلافات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اختلافات کی بنیادی وجوہات میں آذربائیجان کے ساتھ امن مذاکرات، ملکی سیاسی صورتحال اور آرمینیا کی خارجہ پالیسی شامل ہیں۔ حکومت مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی پر ملک کے اندر شدید اختلافات موجود ہیں۔
