حافظ نعیم الرحمن کی 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی اپیل

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور کھانے پینے کی اشیا پر بھاری ٹیکس عائد کر رکھے ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست عام شہری پر پڑ رہا ہے، گزشتہ ایک ماہ کے دوران 27 اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ پیٹرول پر عائد ٹیکس کا بوجھ عام موٹر سائیکل سوار اور غریب عوام برداشت کر رہے ہیں، جبکہ حکمران مسلسل عوام پر مہنگائی کا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت نے لیوی کی مد میں تقریباً 1,900 ارب روپے وصول کیے، جبکہ عام آدمی، خواہ وہ باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ بھی ہو، مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے حکومت کو ادائیگیاں کر رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جس طرح عوام نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا، اسی طرح اب بھی منظم انداز میں باہر نکلنے کی ضرورت ہے، اگر عوام نے آواز بلند نہ کی تو مزید لیوی اور ٹیکس عائد کیے جا سکتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کی مراعات برقرار ہیں جبکہ مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے