خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے کیپٹن حمزہ شہید ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہنگو میں گزشتہ روز خارجی دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیاگیا،سیکیورٹی فورسز نےخوارج کےٹھکانوں کومؤثر اندازمیں نشانہ بنایا،دہشت گردوں نےکارروائی کےدوران مسجدکا تقدس پامال کرتے ہوئے وہاں پناہ لینے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کےمطابق آپریشن میں 7 خوارج ہلاک ہوئے،جن کےقبضے سے بھاری مقدارمیں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا،فائرنگ کے شدید تبادلےمیں 27 سالہ کیپٹن حمزہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، کیپٹن حمزہ کا تعلق نارووال سے تھا اور وہ دستےکی قیادت کرتے ہوئے خوارج کا تعاقب کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کےمطابق ہلاک دہشت گردسیکیورٹی فورسز کیخلاف متعدد کارروائیوں اورشہریوں کے قتل میں ملوث تھے،علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ تھری پوری قوت سے جاری ہے،فتنہ الہندوستان کے مزید تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا،بلوچستان کے علاقے کمبیلہ اورعاصم آباد میں سیکیورٹی فورسزنے سرچ اینڈ سینی ٹائزیشن آپریشن کرکے اڑسٹھ مربع کلومیٹرکا علاقہ کلیئرکرالیا۔
اس دوران جھڑپوں میں فتنہ الہندوستان کےتین دہشت گرد جہنم واصل ہوئے،دو لاشیں برآمد کرلی گئیں۔ چار دہشت گرد زخمی بھی ہوئے جن میں سرغنہ شوکت ماما بھی شامل ہے،ذرائع کےمطابق سیکیورٹی فورسزنے آپریشن کے دوران بارہ مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا،دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرکےفتنہ الہندوستان کے جھنڈے ہٹا دیئے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نےہنگومیں آپریشن کے دوران کیپٹن حمزہ کی شہادت پرافسوس کا اظہارکیا،انکی بہادری،جرات اور فرض شناسی کو خراجِ عقیدت پیش کیا، وزیراعظم نے کہا قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کوکبھی فراموش نہیں کرے گی،اللہ تعالیٰ شہیدکےدرجات بلندفرمائے،اہلخانہ کوصبرجمیل عطا کرے۔
وزیراعظم نے کہا دہشتگردی کےمکمل خاتمے تک فتنہ الخوارج کےخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
