مصر بھی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے: اردوان

ترکیہ کا ایران میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، امن کیلئے سفارتی کردار کی پیشکش

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر بھی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے نئے دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔اردوان نے یہ بات الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے مصر کی ممکنہ شمولیت کو اتحاد کی توسیع کے لیے زیر غور مختلف آپشنز میں شامل قرار دیا۔

ترک صدر کے مطابق معاہدہ مزید ارکان کی شمولیت کے لیے کھلا ہے۔ انہوں نے مصر کے ممکنہ الحاق کا اشارہ دیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ قاہرہ نے شمولیت کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔ پاکستانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو نیٹو کے علاقائی متبادل کے طور پر پیش کرنے سے بھی گریز کیا ہے۔

انٹرویو میں اردوان نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ترکی کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق اہم آبی گزرگاہ کی مسلسل بندش تمام فریقوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ خلیجی ممالک کا تیل اور گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اردوان نے قطر کے ثالثی کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکا نے 2019 میں روسی ساختہ S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد ترکی کو F-35 پروگرام سے نکال دیا تھا۔ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ S-400 نظام F-35 طیاروں کی حساس ٹیکنالوجی کے لیے سکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکا نے 2020 میں ترکی پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔ اردوان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی علاقائی دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ اگر مصر بھی مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں شامل ہوتا ہے تو چار اہم علاقائی طاقتیں ایک مشترکہ دفاعی فریم ورک میں آ جائیں گی۔ ایسی پیش رفت مشرق وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا میں علاقائی سکیورٹی تعاون کی نئی سمت متعین کر سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے